حوزہ نیوز ایجنسی|
کیا ہم واقعی انسانوں سے محبت کرتے ہیں، یا ان کی دولت، عہدے اور شہرت سے؟
یہ سوال جتنا سادہ دکھائی دیتا ہے، اتنا ہی گہرا اور بے رحم ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ آج انسان کی اصل پہچان اس کے اخلاق، علم، تقویٰ اور انسانیت نہیں رہی، بلکہ اس کا بینک بیلنس، سماجی مقام، عہدہ، شہرت اور ظاہری حیثیت بن چکی ہے۔ گویا انسان کی قدر اس کی ذات سے نہیں بلکہ اس کے گرد موجود چمک دمک سے کی جاتی ہے۔
ایک غریب شخص اگر علم و حکمت کی بات کرے تو اکثر اس کی آواز پس منظر میں گم ہو جاتی ہے، لیکن وہی بات اگر کوئی صاحبِ اختیار، سرمایہ دار یا مشہور شخصیت کہہ دے تو لوگ اسے غیر معمولی بصیرت قرار دیتے ہیں۔ ہم دلیل کو نہیں، بلکہ بولنے والے کی حیثیت کو وزن دینے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سچ بھی کبھی کبھی کمزور دکھائی دیتا ہے، اگر وہ کسی بے نام زبان سے ادا ہو۔
نفسیات میں اس رجحان کو Halo Effect کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق اگر کسی شخص کے پاس دولت، شہرت یا سماجی مقام ہو تو لوگ لاشعوری طور پر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ وہ ہر اعتبار سے زیادہ ذہین، زیادہ باصلاحیت اور زیادہ درست ہوگا۔ حالانکہ حقیقت ہمیشہ ایسی نہیں ہوتی۔ یوں شخصیت کی اصل خوبیاں پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور ظاہری حیثیت اصل معیار بن جاتی ہے۔
لیکن شاید اس مسئلے کی جڑ اس سے بھی زیادہ گہری ہے۔ ہم نے صرف انسان کو دیکھنے کا معیار نہیں بدلا، بلکہ احساس کرنے کا معیار بھی بدل دیا ہے۔ آج ہمارے دل ہر انسان کے لیے یکساں نہیں دھڑکتے۔ ہمارے احساسات، ہماری ہمدردیاں اور ہماری توجہ اکثر صرف ان لوگوں کے لیے جاگتی ہے جو دولت مند، بااثر یا کامیاب ہوں۔ اگر کوئی غریب، گمنام یا کمزور انسان تکلیف میں ہو تو ہم آسانی سے گزر جاتے ہیں، لیکن اگر یہی مصیبت کسی مشہور شخصیت پر آ جائے تو پورا معاشرہ بے چین ہو اٹھتا ہے۔
یہ صرف رویّے کی تبدیلی نہیں، بلکہ ہماری روحانی اور اخلاقی کیفیت کا آئینہ ہے۔ جب انسان کی قیمت اس کی انسانیت کے بجائے اس کی حیثیت سے لگنے لگے تو دلوں سے اخلاص، ہمدردی، مساوات اور بے غرض محبت آہستہ آہستہ رخصت ہونے لگتی ہے۔ پھر ہم انسانوں سے نہیں، ان کے مفاد، طاقت اور مقام سے تعلق جوڑتے ہیں۔
لیکن المیہ صرف یہ نہیں کہ لوگ بدل جاتے ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات خود انسان بھی بدل جاتا ہے۔ شہرت، دولت اور اختیار اگر دل میں عاجزی پیدا کرنے کے بجائے غرور پیدا کر دیں تو یہی نعمت انسان کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ تعریفیں آہستہ آہستہ انسان کو اس کی حقیقت بھلا دیتی ہیں، اور وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے اپنے علاوہ ہر شخص چھوٹا دکھائی دینے لگتا ہے۔
شہرت بذاتِ خود بری چیز نہیں، بلکہ یہ اللہ کی عطا کردہ ایک امانت اور امتحان ہے۔ یہ انسان کو بلندی بھی دے سکتی ہے اور اگر اخلاص باقی نہ رہے تو اسی بلندی سے گرا بھی سکتی ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کتنا مشہور ہے، بلکہ یہ ہے کہ شہرت نے اس کے کردار میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے۔
یہی احساس شاید ہمیشہ میرے دل میں بھی رہا ہے۔
آج سے تقریباً چار سال پہلے مجھے ایک ٹی وی چینل پر بطور میزبان (Host) کام کرنے کی پیشکش ہوئی۔ اگرچہ میرا تعلق ایک خوشحال اور باوقار خاندان سے ہے، اس لیے میرے لیے یہ محض معاشی ضرورت کا معاملہ نہیں تھا۔ مگر اس وقت میرے ذہن میں ایک سوال بار بار ابھر رہا تھا:
"اگر مجھے شہرت مل گئی تو کیا میں بھی بدل جاؤں گی؟ کیا لوگوں کی تعریفیں میرے اخلاص کو متاثر کر دیں گی؟ کیا کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا مجھے پہچان لے، مگر میں خود کو کھو بیٹھوں؟"
آج بھی، برسوں بعد، میرے دل میں شہرت کے لیے کشش سے زیادہ ایک خوف موجود ہے۔ مجھے یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں دنیا کی مقبولیت میری آخرت کے نقصان کا سبب نہ بن جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ میرا نام جاننے لگیں، مگر اللہ کے نزدیک میری قدر کم ہو جائے۔ کیونکہ انسان کے لیے سب سے بڑا خسارہ یہی ہے کہ وہ دنیا میں مقبول ہو جائے مگر اپنے رب کی رضا کھو بیٹھے۔
قرآنِ مجید ہمیں عزت کا وہ معیار دیتا ہے جو دنیا کے تمام مصنوعی پیمانوں کو باطل کر دیتا ہے: «﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾»
"بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔"
(سورۃ الحجرات: 13)
اللہ کے نزدیک نہ دولت معیار ہے، نہ شہرت، نہ عہدہ، نہ لوگوں کی تالیاں اور نہ ہی سوشل میڈیا کی مقبولیت۔ وہاں صرف دلوں کا اخلاص، کردار کی پاکیزگی، تقویٰ اور اعمال کی سچائی دیکھی جائے گی۔
ہمیں خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے: اگر کل ہماری دولت ختم ہو جائے، عہدہ چھن جائے، شہرت ماند پڑ جائے اور لوگ ہماری تعریف کرنا چھوڑ دیں، تو کیا ہماری شخصیت میں کوئی ایسی خوبی باقی ہوگی جو ہمیں قابلِ احترام بنائے؟
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ دولت لوگوں کو آپ کے دروازے تک لا سکتی ہے، عہدہ انہیں کھڑا رکھ سکتا ہے، اور شہرت آپ کے گرد ہجوم جمع کر سکتی ہے؛ مگر صرف کردار ہی لوگوں کے دلوں میں مستقل جگہ بناتا ہے۔
آئیے! ہم اپنے معیار بدلیں۔ انسان کو اس کے لباس، گاڑی، عہدے یا شہرت سے نہیں، بلکہ اس کے اخلاق، دیانت، علم، دردِ دل اور انسانیت سے پہچانیں۔ اپنے احساسات کو صرف کامیاب لوگوں تک محدود نہ کریں، بلکہ ان لوگوں تک بھی پہنچائیں جنہیں دنیا نے نظر انداز کر دیا ہے؛ کیونکہ یہی احساس، یہی ہمدردی اور یہی عدل ایک زندہ معاشرے کی پہچان ہیں۔
آخر میں صرف ایک سوال…
ہم لوگوں کی نظروں میں بڑے بننے کی کوشش کر رہے ہیں، یا اللہ کی بارگاہ میں؟
کیونکہ دنیا کی شہرت چند دنوں کی مہمان ہے، مگر اللہ کی رضا ہمیشہ باقی رہنے والی حقیقت ہے۔ اور خوش نصیب وہ نہیں جسے دنیا پہچان لے، بلکہ وہ ہے جسے آسمان والے عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔









آپ کا تبصرہ